فهرس الكتاب

الصفحة 151 من 255

انہوں نے عرض کیا:'' جی ہاں۔ ''

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

'' فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا لَقِيَ أَبَا قَتَادَۃ یَقُوْلُ:''مَا صَنَعَتِ الدیْنَارَانِ؟ ''

حَتَّی کَانَ آخِرَ ذٰلِکَ قَالَ:'' قَدْ قَضَیْتُھُمَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ ''

'' (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوتی، تو فرماتے:'' ان دو دیناروں کا کیا بنا ہے؟ ''

یہاں تک کہ آخرکار انہوں نے عرض کیا:'' اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!

میں نے ان دونوں کو ادا کردیا ہے۔ ''

[یہ سن کر] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' اَلْآن حِیْنَ بَرَدَتْ عَلَیْہِ جِلْدَہُ۔ '' [1]

'' اب اس پر اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے۔ ''

امام بخاری نے مذکورہ بالا روایت کو صحیح بخاری میں درج ذیل عنوان کے ضمن میں نقل کیا ہے:

[بَابُ مَنْ تَکَفَّلَ عَنْ مَیِّتٍ دَیْنًا فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یَرْجِعَ۔] [2]

[اس بارے میں باب کہ میت کے قرض کا ضامن بننے والا[اس سے] رجوع نہیں کرسکتا۔]

[2] صحیح البخاري ۴؍ ۴۷۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت