فهرس الكتاب

الصفحة 224 من 255

ا:سودی لین دین کا ایمان کے منافی ہونا:

اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ [1]

''اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے، چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔''

علامہ الحرالی تحریر کرتے ہیں:

'' فَبَیَّنَ أَنَّ الرِّبَا وَالْإِیْمَانَ لَا یَجْتَمِعَانِ۔'' [2]

'' (اس آیت میں) اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، کہ بلاشبہ سود اور ایمان جمع نہیں ہوتے۔''

ب:سودنہ چھوڑنے والوں کے لیے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلانِ جنگ:

مذکورہ بالا آیت شریفہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ [3]

''اور اگر تم نے [باقی ماندہ سود] نہ چھوڑا، تو اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بڑی جنگ کا اعلان سن لو۔''

امام مالک فرماتے ہیں:

'' لَمْ أَرَأَشَرَّ مِنَ الرِّبَا لِأَنَّ اللّٰہَ آذَنَ فِیْہِ بِالْحَرْب۔'' [4]

''میں نے سود سے بُری کوئی [چیز] نہیں دیکھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بنا پر اعلانِ جنگ کیا ہے۔''

ج:ایک درہم سود کھانے کا چھتیس مرتبہ زنا سے زیادہ سنگین ہونا:

[2] منقول از تفسیر القاسمي ۳؍۳۷۳۔

[3] سورۃ البقرۃ؍ الآیۃ ۲۷۹۔

[4] ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي۳؍۳۶۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت