فهرس الكتاب

الصفحة 148 من 619

3۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

''اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ''کچھ زیادہ کیجئے۔'' آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ''دولپ بھر کر (اور بھی) '' انہوں نے پھر عرض کی: ''اور زیادہ کیجئے۔'' آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ''اتنے لوگ اور بھی۔'' [1] (الحدیث رواہ في شرح السنۃ)

مذکورہ حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ سے جو لپیں بھر کر نکالی جائیں گی، ان سے اللہ کی لپیں مراد ہیں ۔ وللّٰہ الحمد۔

نماند بہ عصیاں کسے در گرو

کہ دارد چنیں سید پیشرو

[وہ شخص نافرمانی میں گرفتار نہیں ہو سکتا، جس کا آقا و مالک تیرے جیسا ہو]

بغیر حساب جنت میں جانے والے:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:'' میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے اور بدفالی و نحوست نہیں پکڑتے، بلکہ اپنے رب تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہیں ۔'' [2] (متفق علیہ)

دوسری روایت کے الفاظ ہیں:

''وہ مطالبہ کر کے دم نہیں کرواتے اور نہ داغ لگاتے ہیں ۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ مِنْھُمْ ) ) [اے اللہ! اس (عکاشہ) کو ان لوگوں میں شامل کر دے] ایک دوسرے صحابی نے کھڑے ہو کر یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( سَبَقَکَ بِھَا عُکَاشَۃُ ) ) [اس (سعادت) میں عکاشہ تم سے سبقت کر گئے ہیں ] [3] (متفق علیہ)

[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۱۰۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۲۰)

[3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۱۰۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۱۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت