فهرس الكتاب

الصفحة 219 من 619

پیش لفظ

الحمد للّٰه الذي نزّل الفرقان علیٰ عبدہ لیکون للعالمین نذیرًا، ونشھد أن لا إلٰہ إلا اللّٰه وحدہ لا شریک لہ، ونشھد أن محمدًا عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلّہ، وکفیٰ باللّٰه شھیدًا۔ أما بعد:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ}

[الأنبیائ: ۲۵]

''اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔''

اسلام میں عقیدے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اسی کی تعلیم وتبلیغ کے لیے جملہ انبیا و رسل کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن نازل کیا۔ ان سب انبیا کی دعوت کا خلاصہ توحید ہی رہا ہے۔ اسی لیے علامہ سفارینی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

''تمام علوم، توحید کی فرع ہیں ، اس لیے کہ توحید سب سے بہتر عبادت و طاعت ہے اور کسی بھی عبادت وطاعت کی صحت اور اعمال کی قبولیت کے لیے توحید لازمی شرط ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ توحید، ربّ ذو الجلال کی معرفت سے عبارت ہے۔ جس نے اپنے حقیقی معبود کو نہ پہچانا، اس کے تمام اعمال مردود قرار پاتے ہیں ۔''

(لوامع الأنوار: ۱/۵۷)

علامہ بدیع الدین راشدی رحمہ اللہ نے علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قرآن کریم کی ہر آیت سے صراحت یا کنائے کے طور پر توحید ہی کا اثبات ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت