فهرس الكتاب

الصفحة 180 من 619

توحید کا چوتھا درجہ

الٰہ کا معنی:

اہلِ علم کے اجماع کے ساتھ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ لفظ الٰہ کے معنی معبود کے ہیں ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِِلٰہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِِلٰہٌ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ} [الزخرف: ۸۴]

[اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے]

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{ اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِِلٰھَہُ ھَوٰہُ } [الفرقان: ۴۳]

[کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا؟]

الٰہ بمعنی معبود ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش سے کہا تھا: تم میرے سامنے ایک کلمے کا اقرار کرو جس سے تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ ابوجہل نے بڑھ کر کہا: ایک کلمہ کیا ہم دس گنا کلمات کا اقرار کرنے کو تیار ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ''لا إلٰہ إلا اللّٰه'' کہو۔ یہ سن کر وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور منتشر ہو گئے اور کہنے لگے:

{ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِِلٰھًا وَّاحِدًا اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} [صٓ: ۵]

[کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلا شبہہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے] [1]

ان کی طرف سے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:

{ ئَ اٰلِھَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ھُوَ} [الزخرف: ۵۸] [کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟]

نیز فرمایا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت