فهرس الكتاب

الصفحة 358 من 619

دعا اور پکار عبادت ہے:

وہ لوگ کہاں ہیں جو ان آیات کے معانی سمجھیں:

{ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ} [الأعراف: ۱۹۴]

[بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ تمھارے جیسے بندے ہیں ]

{ فَلاَ تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا} [الجن: ۱۸] [پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو]

{ لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَھُمْ بِشَیْئٍ}

[الرعد: ۱۴]

[برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے]

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمیں یہ خبر دی ہے کہ دعا عبادت ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

{ اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ} [الغافر: ۶۰]

[مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عن قریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے]

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

(( إِنَّ الدُّعَائَ ھُوَ الْعِبَادَۃُ ) ) [یقینا دعا عبادت ہی تو ہے] پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مذکورہ آیت تلاوت فرمائی۔ (رواہ أبوداؤد و الترمذي و قال: حسن صحیح) [1]

ایک روایت میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

(( اَلدُّ عَائُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ ) ) [2] [دعا عبادت کا مغز ہے]

[2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۳۷۱) اس کی سند میں ''ابن لہیعہ'' راوی ضعیف ہے، لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت