فهرس الكتاب

الصفحة 517 من 619

دوسرا باب

اسماے الٰہیہ اور رویتِ ربانی

اسماے الٰہیہ:

اسماے الٰہیہ کا ثبوت قرآن و حدیث اور سلفِ امت کے اجماع سے ہے۔ رب پاک نے فرمایا:

1۔ { وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا} [الأعراف: ۱۸۰]

[اچھے نام اللہ کے لیے ہیں ، اللہ کو انھیں ناموں سے پکارو]

2۔ {قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی}

[بني إسرائیل: ۱۱۰]

[تم اللہ کو پکار و یا رحمان کو پکارو، تم جس کسی کو پکارو، اچھے نام اسی کے لیے ہیں ]

3۔ { ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی} [الحشر: ۲۴]

[وہ اللہ ہے پیدا کرنے والا بنانے والا صورت گری کرنے والا اچھے نام اسی کے لیے ہیں ]

امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ آیتیں اجمالی طور پر اسماے الٰہیہ پر مشتمل ہیں ، تفصیلًا نہیں ۔ امام صاوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نام سے مراد وہ الفاظ ہیں جو صرف ذات و صفات دونوں پر دلالت کرتے ہیں ۔ امام بیضاوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسما سے مراد الفاظ ہیں یا صفات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے نام تمام ناموں پر اس لیے برتر اور اشرف ہیں کہ یہ نام اچھے معانی بتلاتے ہیں ۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب بستر پر جاتے تو فرماتے:

(( اَللّٰہُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیا وَ بِاسْمِکَ أَمُوْتُ ) ) [1]

[اے اللہ! تیرے نام سے زندہ ہوتا ہوں اور تیرے ہی نام سے مرتا ہوں ]

حدیثِ بِطاقہ میں ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت