فهرس الكتاب

الصفحة 187 من 619

توحید کا پانچواں درجہ

دعا عبادت ہے:

دعا نہ صرف عبادت ہے، بلکہ عبادات کا بھی مغز ہے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے نزدیک دعا کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کو افضل عبادت فرمایا ہے۔ (رواہ الحاکم و صححہ) [1]

ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے:

(( الدُّعَائُ ھُوَالْعِبَادَۃُ ) ) (رواہ الترمذي) [2] [دعا ہی عبادت ہے]

اس حدیث کے الفاظ (( الدُّعَائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ ) )حصر پر دلالت کرتے ہیں ۔ یعنی اس جملے میں مبتدا خبر کے درمیان ''ھو'' ضمیر فاصل آنے کے سبب خبر مبتدا میں منحصر ہے۔ ان الفاظ میں ایک طرح سے فضیلت کا امتیاز اور دعا کی شان و عظمت میں مبالغہ ہے۔

غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہے:

پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ عبادت کا معنی توحید اور دعا ہے، جس سے ثابت ہوا کہ غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہے، خواہ دعا کے لیے کسی نبی کو پکارا جائے یا ولی کو، یا بھوت، پری اور شیطان کو پکارا جائے یا کسی امام، شہید، پیر یا پیرزادے کو۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے:

{ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن} [الأعراف: ۵۵]

[اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا]

ایک مقام پر فرمایا:

[2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۹۷۹)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت