فهرس الكتاب

الصفحة 497 من 619

سکتی۔ مسموعات اور مبصرات کے سلسلے میں اگر سمع و بصر سے مراد علم لیا جائے تو قرآن و حدیث میں تحریف کے مرادف ہو گا۔ ظاہر ہے جو دیکھتا اور سنتا نہ ہو، اسے سمیع و بصیر نہیں کہا جا سکتا۔

سمع و بصر کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{ وَھُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ} [الشوریٰ: ۱۱] [وہ سننے اور دیکھنے والا ہے]

{ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ } [لقمان: ۲۸] [بے شک اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے]

{ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا} [المجادلۃ: ۱] [ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا]

{ اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَ اَرٰی} [ طٰہٰ: ۴۶]

[میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں ]

{ اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّھُمْ وَنَجْوٰھُمْ} [ الزخرف: ۸۰]

[کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے راز اور سرگوشی کو سنتے نہیں ہیں ؟]

6۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

(( تَدْعُوْنَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا ) ) [1]

[تم سننے اور دیکھنے والے کو پکار رہے ہو]

7۔نیز فرمایا:

(( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکِ ) ) [2]

[بے شک اللہ نے تمھاری قوم کی بات سن لی ہے]

وہ نرالا ہے:

کوئی چیز اس کی ذات اور صفات میں مشابہ نہیں ۔ فرمایا:

{ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ} [الشوریٰ: ۱۱] [اس کی طرح کوئی شے نہیں ہے]

وہ کسی شے کے مشابہ نہیں ہے۔ جہمیہ اہلِ حدیث کو مشبہہ کہتے ہیں ، حالانکہ وہ خود معطلہ ہیں ۔ تشبیہ تو اس وقت لازم آتی ہے جب کسی کو اللہ کے مثل یا اللہ کو کسی شے کے مثل مانا جائے۔

[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۰۵۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۹۵)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت