فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
سکتی۔ مسموعات اور مبصرات کے سلسلے میں اگر سمع و بصر سے مراد علم لیا جائے تو قرآن و حدیث میں تحریف کے مرادف ہو گا۔ ظاہر ہے جو دیکھتا اور سنتا نہ ہو، اسے سمیع و بصیر نہیں کہا جا سکتا۔
سمع و بصر کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
1۔ { وَھُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ} [الشوریٰ: ۱۱] [وہ سننے اور دیکھنے والا ہے]
2۔ { اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ } [لقمان: ۲۸] [بے شک اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے]
3۔ { وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا} [المجادلۃ: ۱] [ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا]
4۔ { اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَ اَرٰی} [ طٰہٰ: ۴۶]
[میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں ]
5۔ { اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّھُمْ وَنَجْوٰھُمْ} [ الزخرف: ۸۰]
[کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے راز اور سرگوشی کو سنتے نہیں ہیں ؟]
6۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
(( تَدْعُوْنَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا ) ) [1]
[تم سننے اور دیکھنے والے کو پکار رہے ہو]
7۔نیز فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکِ ) ) [2]
[بے شک اللہ نے تمھاری قوم کی بات سن لی ہے]
کوئی چیز اس کی ذات اور صفات میں مشابہ نہیں ۔ فرمایا:
{ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ} [الشوریٰ: ۱۱] [اس کی طرح کوئی شے نہیں ہے]
وہ کسی شے کے مشابہ نہیں ہے۔ جہمیہ اہلِ حدیث کو مشبہہ کہتے ہیں ، حالانکہ وہ خود معطلہ ہیں ۔ تشبیہ تو اس وقت لازم آتی ہے جب کسی کو اللہ کے مثل یا اللہ کو کسی شے کے مثل مانا جائے۔
[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۰۵۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۹۵)