[میری امت میں سے ایک جماعت کے لوگ ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے، ان کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، وہ شخص جو ان کا ساتھ چھوڑ دے یا ان کی مخالفت کرے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ اسی پر رہیں گے]
امام ابن المدینی رحمہ اللہ (امام بخاری کے استاد) نے کہا ہے:
''ہم أھل الحدیث'' [1] [وہ اہلِ حدیث ہیں ]
سو یہ طائفہ (گروہ) انھیں غربا کا ہے، جن کا ذکر احادیث متقدمہ میں گزر چکا ہے کہ وہ فسادِ مردم کی اصلاح کرتے ہیں اور اپنے دین کو لے کر فتن سے بھاگتے ہیں ۔ (( وہم النُّزَّاعُ من القبائل ) ) [2] [اور وہ اجنبی لوگ ہیں جو قبائل سے الگ ہونے والے ہیں ]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں مرفوعًا آیا ہے:
(( وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِھَا أَنْ یَکُوْنَ الْمُؤْمِنُ فِيْ الْقَبِیْلَۃِ أَقَلَّ مِنَ النَّقْدِ أَيْ صِغَارِ الْغَنَمِ ) )
(رواہ الطبراني) [3]
[قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ مومن اپنے قبیلے میں بکری کے چھوٹے بچے سے بھی کمتر ہو گا]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک دوست سے کہا تھا:
''إن طالت بکم حیاۃ أن تری الرجل قد قرأ القرآن علی لسان محمد صلی اللّٰه علیہ و سلم فأعادہ وأبداہ فأحلّ حلالہ وحرّم حرامہ ونزل عند منازلہ ما یحورُ فیکم إلاّ کما یحورُ رأس ألحمار'' (رواہ أحمد) [4]
[2] اس لفظ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۹۸۸) سنن دارمی (۲۷۵۵) اور احمد بن حنبل نے مسند (۱/۳۹۸، ۵/۳۴۳) میں روایت کیا ہے۔ امام بغوی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
[3] اس کو امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں روایت کیا ہے، جیسا کہ ہیثمی نے ''مجمع الزوائد'' (۷/ ۳۲۳) میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں ''سیف بن مسکین'' نامی راوی ضعیف ہے۔
[4] اس کو احمد نے اپنی مسند (۴/ ۱۲۶) میں روایت کیا ہے۔