فهرس الكتاب

الصفحة 512 من 619

7۔ (( اَلْعِزُّ إِزَارِيْ وَالْکِبْرِیَائُ رِدَاِئيْ ) ) [1]

[عزت میرا لباس اور کبریائی میری چادر ہے]

صفتِ جلال، مجد، جبروت، کبریا اور عظمت یہ ہم معنی الفاظ ہیں ۔ قرآن کریم اور حدیث شریف میں ان کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ فرمایا:

1۔ { ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِِکْرَامِ} [الرحمٰن: ۲۷] [جلال وعزت والا]

2۔ {وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ} [الجاثیۃ: ۳۷]

[اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے]

3۔ (( وَ عِزَّتِيْ وَجَلَالِيْ وَعَظْمَتِيْ ) ) [2]

[ میری عزت، جلال اور عظمت کی قسم]

4۔ (( سُبْحَانَ ذِيْ الْجَبَرُوْتِ وَ الْمَلَکُوْتِ ) ) [3]

[جبروت اور بادشاہت والے کی پاکی بیان کرتے ہیں ]

5۔ (( أَھْلُ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ ) ) [4] [تعریف اور مجد والا]

حیات:

امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ صفات الٰہیہ کا ثبوت قرآن و حدیث دونوں سے ہے۔ اللہ کی ایک صفت حیات ہے۔ فرمایا:

1۔ { ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْم} [البقرۃ: ۲۵۵] [وہ حی اور قیوم ہے]

2۔ { ھُوَ الْحَیُّ لَآ اِِلٰـہَ اِِلَّا ھُوَ} [المؤمن: ۶۵] [ وہ حی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ]

3۔ { وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لاَ یَمُوْتُ} [الفرقان: ۵۸]

[اسی حی (زندہ) پر توکل کرو جس پر موت نہیں آتی]

[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۷۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۹۳)

[3] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۸۷۳)

[4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۷۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت