فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
7۔ (( اَلْعِزُّ إِزَارِيْ وَالْکِبْرِیَائُ رِدَاِئيْ ) ) [1]
[عزت میرا لباس اور کبریائی میری چادر ہے]
صفتِ جلال، مجد، جبروت، کبریا اور عظمت یہ ہم معنی الفاظ ہیں ۔ قرآن کریم اور حدیث شریف میں ان کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ فرمایا:
1۔ { ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِِکْرَامِ} [الرحمٰن: ۲۷] [جلال وعزت والا]
2۔ {وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ} [الجاثیۃ: ۳۷]
[اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے]
3۔ (( وَ عِزَّتِيْ وَجَلَالِيْ وَعَظْمَتِيْ ) ) [2]
[ میری عزت، جلال اور عظمت کی قسم]
4۔ (( سُبْحَانَ ذِيْ الْجَبَرُوْتِ وَ الْمَلَکُوْتِ ) ) [3]
[جبروت اور بادشاہت والے کی پاکی بیان کرتے ہیں ]
5۔ (( أَھْلُ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ ) ) [4] [تعریف اور مجد والا]
امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ صفات الٰہیہ کا ثبوت قرآن و حدیث دونوں سے ہے۔ اللہ کی ایک صفت حیات ہے۔ فرمایا:
1۔ { ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْم} [البقرۃ: ۲۵۵] [وہ حی اور قیوم ہے]
2۔ { ھُوَ الْحَیُّ لَآ اِِلٰـہَ اِِلَّا ھُوَ} [المؤمن: ۶۵] [ وہ حی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ]
3۔ { وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لاَ یَمُوْتُ} [الفرقان: ۵۸]
[اسی حی (زندہ) پر توکل کرو جس پر موت نہیں آتی]
[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۷۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۹۳)
[3] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۸۷۳)
[4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۷۱)