فهرس الكتاب

الصفحة 73 من 619

اس کی خبر نہ تھی ہمیں یہ دن دکھائیں گے

بے قدریوں کا اپنی قلق ان کے غم کا رنج

کیا کیا ہم ان کے ہجر میں صدمے اٹھائیں گے

اوصاف ان کے یاد کریں گے تمام عمر

روئیں گے اور جلیسوں کو ان کے رلائیں گے

غم خواری کرنے والا تو دنیا سے اٹھ گیا

اب کس کو اپنے غم کی کہانی سنائیں گے

وقعت رہی اپنی نہ آبرو رہی

اے بے مزہ حیات فقط ایک تو رہی [1]

بابو رام سکسینہ نواب صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:

''نواب صاحب موصوف عربی و فارسی کے بڑے عالم و فاضل اور اپنے زمانے کے مشہور مفسر اور محدث سمجھے جاتے تھے۔ مفتی صدر الدین آزردہ کے شاگرد تھے اور تقریبًا ڈیڑھ سو ضخیم کتابوں کے مصنف تھے۔ شعرا اور اہلِ علم کے بڑے قدر دان تھے۔ اردو میں توفیق اور فارسی میں نواب تخلص کرتے تھے۔'' [2]

تاریخ ادب اردو کے مصنف شہیر بابو رام سکسینہ کو شاید نواب صاحب کی تمام تصانیف کا علم نہیں ہوسکا، ان کی عربی، فارسی اور اردو کی کل تصانیف کی تعداد دو سو تیس کے قریب ہے، جن میں ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں بڑی ضخیم اور کئی کئی جلدوں پر محیط ہیں ۔ ایک تفسیر قرآن پندرہ جلدوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، لیکن اس کے باوجود نواب صاحب اپنی تصانیف کا ذکر نہایت منکسرانہ انداز میں کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں ان کے الفاظ قابل مطالعہ ہیں:

''میری تالیفات کا غالب حصہ علماے راسخین کے تراجم اور آثارِ سلف کے نقول پر مبنی ہے، جو ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ یا نقل کیے گئے ہیں ۔ جو کچھ میں نے اپنی

[2] تاریخ ادبِ اردو (ص: ۴۱۴) عشرت پبلشنگ ہاؤس، لاہور۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت