فهرس الكتاب

الصفحة 28 من 100

الجاہلیۃ، و إذا أسأت في الإسلام أخذت بالأول والآخر'' [1]

جب تمہارا اسلام اچھا ہوگا تو تم سے زمانۂ جاہلیت میں کئے گئے اعمال کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور اگر تم اسلام میں برائی کروگے تو تم سے اول و آخر دونوں کا مواخذہ کیا جائے گا۔

۶-اسلام کے سبب اللہ تعالیٰ بندے کے لئے اس کی حالت کفر اور حالت اسلام دونوں زمانوں کی نیکیاں اکٹھا کردے گا:

کیونکہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے حدیث ہے' وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! زمانۂ جاہلیت میں جونیکیاں میں نے صدقہ' غلام کی آزادی اور صلہ رحمی وغیرہ کی شکل میں کی ہیں ' ان کے سلسلہ میں آپ کا کیا خیال ہے' کیا ان کا کوئی اجر وثواب مجھے ملے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت