الجاہلیۃ، و إذا أسأت في الإسلام أخذت بالأول والآخر'' [1]
جب تمہارا اسلام اچھا ہوگا تو تم سے زمانۂ جاہلیت میں کئے گئے اعمال کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور اگر تم اسلام میں برائی کروگے تو تم سے اول و آخر دونوں کا مواخذہ کیا جائے گا۔
کیونکہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے حدیث ہے' وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! زمانۂ جاہلیت میں جونیکیاں میں نے صدقہ' غلام کی آزادی اور صلہ رحمی وغیرہ کی شکل میں کی ہیں ' ان کے سلسلہ میں آپ کا کیا خیال ہے' کیا ان کا کوئی اجر وثواب مجھے ملے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: