یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ایمان لاکر پھر کافر ہوگئے لہٰذا ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی تو وہ سمجھتے نہیں۔
اس کی دلیل اللہ عزوجل کایہ ارشاد ہے:
{وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللّٰہِ فَأَذَاقَهَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ} [1]
اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرما رہا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہرجگہ سے چلی آرہی تھی' پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر (ناشکری) کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزا چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا۔واللہ المستعان۔ [2]
[2] مجمو عۃ التوحید، از شیخ الاسلام ابن تیمیہ و شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہما اللہ، ص۶۔