{أَفَمَن شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللّٰہِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ} [1]
کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے، اور ہلاکت وبربادی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اثر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہوگئے ہیں، یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں۔
چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' لَزَوالُ الدنيا أهونُ على اللّٰہِ مِن قتلِ رجلٍ مسلمٍ '' [2]
[2] سنن ترمذی، کتاب الدیات، باب ماجاء فی تشدید قتل المومن، ۴/۱۶، حدیث (۱۳۹۵) علامہ شیخ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی (۲/۵۶) میں صحیح قرار دیا ہے۔