نبیًا'' (میں اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کواپنا دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانبی مان کر راضی و خوش ہوگیا) تو اس کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے راضی و خوش کردے۔
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [1]
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور اسلام کو تمہارے لئے بحیثیت دین پسند کرلیا۔
۲۱-اسلام ہر خیرو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور ہر طرح کی برائی اور نقصان سے منع کرتا ہے:
چنانچہ ایسی کوئی چھوٹی یا بڑی مصلحت اور کوئی ایسی بھلائی نہیں ہے جس کی طرف اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو، اور نہ ہی کوئی ایسی برائی