{وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [1]
اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
معلوم ہوا کہ اسلام توحید کے ذریعہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے' اطاعت کے ذریعہ اس کے تابع فرمان ہونے اور شرک اور مشرکین سے اظہار براء ت کرنے کا نام ہے۔
ایسی صورت میں اسلام سے ظاہری اعمال واقوال مراد ہوں گے اوراسی سے بندے کا خون محفوظ ہوگا خواہ ظاہری اعمال واقوال کے ساتھ اعتقادبھی پایا جائے یا نہ پایا جائے۔ [2]
[2] دیکھئے: مفردات الفاظ القرآن، ازعلامہ راغب اصفہانی، مادہ''سلم'' ص۴۲۳، جامع العلوم والحکم، از ابن رجب،۱/۱۰۴، معارج القبول ازشیخ حافظ حکمی، ۲/۵۹۶۔