توجس نے ایسا کیا یا اس سے راضی و خوش ہوا وہ کافر ہے، اس کی دلیل اللہ عزوجل کا درج ذیل فرمان ہے:
{وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ} [1]
وہ دونوں کسی کو بھی اس وقت تک جادو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں لہٰذا کفر نہ کرو۔
مشرکین کا ساتھ دینا اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرنا، اس کی دلیل درج ذیل فرمان باری ہے:
{وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللّٰہَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [2]
اور تم میں سے جوبھی ان سے دوستانہ رویہ رکھے گا وہ انہی میں سے ہوگا' بیشک اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
[2] سورۃ المائدہ: ۵۱۔