فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 100

رحمت سے دوری اور جہنم میں ہمیشہ ہمیش کی زندگی کا مستحق ہوگا۔

یہ خطرناک احکام اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ جوشخص مسلمانوں میں سے کسی پر کفر کا حکم لگانا چا ہتاہو وہ حکم لگانے سے پہلے بارہا خوب غور وفکر کرلے۔ [1]

۷- اس شخص کے لئے نہ دعا ئے رحمت کی جائے گی اور نہ ہی استغفار کیا جائے گا، کیونکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

{مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} [2]

نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگر چہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ' اس امر کے ظاہر

[2] سورۃ التوبہ:۱۱۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت