فهرس الكتاب

الصفحة 97 من 100

اسی طرح دوسری قسم میں سے بدشگونی لینا بھی ہے جیساکہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے، اللہ عزوجل نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:

{قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ ۚ قَالَ طَائِرُكُمْ عِندَ اللّٰہِ ۖ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ} [1]

انھوں نے کہا: ہم توتیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے ہیں ' (حضرت صالح علیہ السلام نے) فرمایا: تمہاری بدشگونی اللہ کے یہاں ہے' بلکہ تم فتنے میں پڑ ے ہوئے لوگ ہو۔

چنانچہ بدشگونی کفر سے کمتر شرک ہے۔۔۔ اسی طرح اسراء و معراج کی شب میں جشن منانابھی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' مَنْ أحدثَ في أمرِنا هذا، ما ليس منْهُ، فهوَ رَدٌّ '' [2]

[2] متفق علیہ: صحیح بخاری، کتاب الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود، ۳/۲۲۲، حدیث (۲۶۹۷) ، صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، باب نقض الاحکام الباطلہ ومحدثات الامور، ۳/۱۳۴۴، حدیث (۷۱۸) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت