فَقَدِ افْتَرَیٰ إِثْمًا عَظِیْمًا [1] ۔
یقینا اللہ تعالیٰ اس چیز کو ہر گز نہیں معاف کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے،اور اس کے علاوہ گناہوں کو جس کے لئے چاہے بخش دے گا،اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔
6-شرک اکبر تمام اعمال کو ضائع اور اکارت کر دیتا ہے،اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:
{وَلَوْ أَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} [2] ۔
اور اگر ان لوگوں نے بھی شرک کیا تو ان کے سارے اعمال برباد ہو جائیں گے۔
نیز ارشاد ہے:
{لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} [3] ۔
اگر آپ نے بھی شرک کیا تو یقینا آپ کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔
7-شرک اکبر کے مرتکب پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام اور جہنم واجب کردیتا ہے،چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''من مات لا یشرک باللّٰه شیئًا دخل الجنۃ،ومن مات یشرک باللّٰه شیئًا دخل النار'' [4] ۔
جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شریک نہ کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا،اور جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
[2] سورۃ الأنعام:88۔
[3] سورۃ الزمر:65۔
[4] صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب من مات لا یشرک باللّٰه شیئًا دخل الجنۃ،ومن مات مشرکًا دخل النار،1/94،حدیث نمبر (93) ۔