نیز اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:
{إِنَّہُ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ،وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنْصَارٍ} [1] ۔
بے شک جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے،اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
8-شرک اکبر کا مرتکب ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا،اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:
{إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ أَھْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِیْنَ فِيْ نَارِ جَھَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْھَا أُوْلٰئِکَ ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ} [2] ۔
بے شک اہل کتاب کے کفار ومشرکین جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے،یہ مخلوق کے سب سے بدترین لوگ ہیں۔
9-شرک سب سے بڑا ظلم اور جھوٹ ہے،لقمان کی بات جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہی تھی،اس کو نقل کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
{یٰبُنَيَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ} [3] ۔
اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا،یقینا شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔
نیز ارشاد ہے:
{وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرَیٰ إِثْمًا عَظِیْمًا} [4] ۔
اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔
10-اللہ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے بری ہیں،اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
[2] سورۃ البینۃ:6۔
[3] سورۃ لقمان:13۔
[4] سورۃ النساء:48۔