فهرس الكتاب

الصفحة 126 من 265

لا تَنْبَغِي إلّا لِعَبْدٍ مِن عِبادِ اللّٰہِ، وأَرْجُو أنْ أكُونَ أنا هُوَ، فمَن سَأَلَ لي الوَسِيلَةَ حَلَّتْ له الشَّفاعَةُ )) [1]

جب تم موذن کو (اذان کہتے ہوئے) سنو تو تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود پڑھو، کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، پھر میرے لئے مقامِ ''وسیلہ'' مانگو، کیونکہ وہ جنت کا ایک ایسا مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے کسی ایک ہی بندے کے لئے مناسب ہے، اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں ، چنانچہ جو میرے لئے (اللہ سے) وسیلہ کا سوال کرے گا اس کے لئے شفاعت حلال ہوجائے گی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کا نام ''وسیلہ'' اس لئے ہے کہ وہ رحمن (اللہ عزوجل) کے عرش سے سب سے قریب ترین درجہ ہے اور وہ اللہ سے سب سے زیادہ قریب درجہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت