یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔ پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔ بلند وبالا جنت میں ۔ جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) مزے سے کھاؤ اور پیو، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانہ میں کئے۔
(الف) زقوم کا کھانا:
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
{ ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ 51} لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ {52} فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ {53} فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ {54} فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ {55} هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ [1]
پھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو۔ یقینًا تھوہڑ کا درخت کھانے والے ہو۔ اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو۔ پھر اس پر گرم کھولتا پانی