بعدکون کون سی بدعتیں ایجاد کر لی تھیں '' تو میں کہوں گا:ایسے لوگوں کومجھ سے دور ہٹاؤ جنھوں نے میرے بعد میرے دین میں تبدیلیاں کرلی تھیں ۔
عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں:''سحقًا''کے معنیٰ دوری کے ہیں ۔
(الف) الحمیم:
اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:
{ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ } [1]
انہیں (جہنمیوں کو) انتہائی گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔
حمیـــم:یعنی ناقابل برداشت سخت گرم پانی ہوگا، جو ان کے پیٹ کی آنتوں اور اس میں جو کچھ ہوگا تمام چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ [2]
[2] تفسیر ابن کثیر، ۴/۱۶۷، زیر نظر کتاب کا ص: (۱۴۹ ) ملاحظہ کریں ۔