انجام مشک ہوگا، اور کہا گیا ہے کہ''ختام'' چاندی کے مثل ایک سفید شراب ہوگی جسے جنتی سب سے اخیر میں نوش کریں گے۔ [1]
{ وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ } کا مفہوم یہ ہے کہ اس ''رحیق'' میں ''تسنیم'' کی آمیزش ہوگی یعنی ایک ایسی شراب کی آمیزش ہوگی جسے ''تسنیم'' کہا جاتا ہے، جوکہ جنتیوں میں سب سے عمدہ ' افضل اور اعلیٰ قسم کی شراب ہوگی، اسی لئے اللہ عزوجل نے فرمایا { عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ} یعنی '' مقربین'' (سب سے بلند مقام جنتی) خالص تسنیم نوش کریں گے، جبکہ ''اصحاب الیمین'' (دوسرے بلند مرتبہ کے جنتیوں ) کی شراب میں تسنیم کی محض آمیزش ہوگی۔ [2]
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
[2] تفسیر ابن کثیر، ۴/۴۸۸، تفسیر البغوی، ۴/۴۶۲ ۔