فهرس الكتاب

الصفحة 162 من 265

پینے والے ہو۔ پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح۔ یہی قیامت کے دن ان کی مہمانی ہے۔

نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

{ إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ 43} طَعَامُ الْأَثِيمِ {44} كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ {45} كَغَلْيِ الْحَمِيمِ [1]

بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت۔ گناہ گار کا کھانا ہے۔ جو مثل تلچھٹ کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے۔ مثل تیز گرم پانی کے۔

زقوم: یہ ایک گھناؤنے مزے کا بدبودار درخت ہے جس کے کھانے پر جہنمیوں کو مجبور کیا جائے گا، چنانچہ وہ اسے انتہائی کراہت سے نگلیں گے ، اسی لفظ سے اہل عرب کہتے ہیں:۔۔''۔ تزقم الطعام''یعنی (فلاں ) نے انتہائی پریشانی' ناپسندیدگی اور کراہت سے کھانا حلق سے نیچے اتارا۔ [2]

[2] تفسیر البغوی، ۴/۱۵۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت