پینے والے ہو۔ پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح۔ یہی قیامت کے دن ان کی مہمانی ہے۔
نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
{ إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ 43} طَعَامُ الْأَثِيمِ {44} كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ {45} كَغَلْيِ الْحَمِيمِ [1]
بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت۔ گناہ گار کا کھانا ہے۔ جو مثل تلچھٹ کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے۔ مثل تیز گرم پانی کے۔
زقوم: یہ ایک گھناؤنے مزے کا بدبودار درخت ہے جس کے کھانے پر جہنمیوں کو مجبور کیا جائے گا، چنانچہ وہ اسے انتہائی کراہت سے نگلیں گے ، اسی لفظ سے اہل عرب کہتے ہیں:۔۔''۔ تزقم الطعام''یعنی (فلاں ) نے انتہائی پریشانی' ناپسندیدگی اور کراہت سے کھانا حلق سے نیچے اتارا۔ [2]
[2] تفسیر البغوی، ۴/۱۵۴۔