سے اس کا دماغ اس طرح کھول رہا ہوگا جس طرح تانبے کی (تنگ منہ کی ) ہانڈی کھولتی ہے ۔
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے:
(( ما یری أن أحـــــــــدًا أشد منہ عذابًا، وانہ لأھونھم عذابًا ) ) [1]
اسے احساس ہوگا کہ اس سے سخت عذاب سے دوچار کوئی نہیں ہے، حالانکہ وہ سب سے معمولی عذاب سے دوچار ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:
(( نارکم ھذہ التي یوقد ابن آدم سبعین جزء ًا من حرجھنم، قالوا: واللّٰہ انھا لکافیۃ یا رسول اللّٰہ! قال: فانھا فضلت علیھا بتسعۃ وستین جزء ًا کلھا مثل حرھا ) ) [2]
[2] صحیح مسلم ،۴/۲۱۸۴، حدیث (۲۸۴۳) ۔