فهرس الكتاب

الصفحة 138 من 265

سے اس کا دماغ اس طرح کھول رہا ہوگا جس طرح تانبے کی (تنگ منہ کی ) ہانڈی کھولتی ہے ۔

اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے:

(( ما یری أن أحـــــــــدًا أشد منہ عذابًا، وانہ لأھونھم عذابًا ) ) [1]

اسے احساس ہوگا کہ اس سے سخت عذاب سے دوچار کوئی نہیں ہے، حالانکہ وہ سب سے معمولی عذاب سے دوچار ہوگا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے:

(( نارکم ھذہ التي یوقد ابن آدم سبعین جزء ًا من حرجھنم، قالوا: واللّٰہ انھا لکافیۃ یا رسول اللّٰہ! قال: فانھا فضلت علیھا بتسعۃ وستین جزء ًا کلھا مثل حرھا ) ) [2]

[2] صحیح مسلم ،۴/۲۱۸۴، حدیث (۲۸۴۳) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت