کھولے جائیں گے ۔
اور جہنمیوں پر جہنم بند ہوگی، ارشاد ربانی ہے:
{ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ 19} عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ [1]
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا، یہ کم بختی والے ہیں ۔ ان پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری ہوئی ہوگی۔
نیز فرمایا:
{ إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ 8} فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ [2]
وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی۔ بڑے بڑے ستونوں میں ۔
کہاجاتا ہے:''أوصدت الباب وآصدتہ'' یعنی میں نے دروازہ کو اچھی طرح بند کردیا، [3] چنانچہ جہنمیوں پر جہنم کے دروازے بند ہیں ، نہ
[2] سورۃ الھمزہ: ۸،۹۔
[3] مفردات الفاظ القرآن للاصفہانی، ص۸۷۲۔