فهرس الكتاب

الصفحة 91 من 265

دوبارہ گئے اور دیکھا کہ اسے شہوات سے گھیر دیاگیا ہے، لوٹ کر اللہ کے پاس آئے اور کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پائے گا مگر اس میں داخل ہوگا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ' کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( حُجِبَتِ النّارُ بالشَّهَواتِ، وحُجِبَتِ الجَنَّةُ بالمَكارِهِ ) ) [1]

جہنم کو من چاہی چیزوں سے گھیر دیاگیا ہے اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے۔

یہاں ''شہوات'' سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے انجام دینے یا ترک کرنے میں مکلف کو اپنے نفس سے مجاہدہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے، جیسے قولی و عملی طور پر عبادتوں کی کما حقہ انجام دہی اور ان کی پابندی، نیز منع کردہ امور سے اجتناب و احتراز۔ [2]

[2] دیکھئے: فتح الباری، ۱۱/ ۳۲۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت