۱۵؍ اکتوبر
۱۱؍ شعبان
انعقاد جشن مسرت، خلعت و خطاب مراتب و اعزازات نواب والا جاہ امیر الملک مرحمت ہوئے، سترہ توپوں کی سلامی اور جاگیر عطا ہوئی۔
۱۷؍ نومبر
۱۴؍ رمضان
نواب شاہجہاں بیگم کے ہمراہ بمبئی روانگی، بعد ازاں سورت اور احمد آباد کا سفر۔
۳۰؍ نومبر
۲۸؍ رمضان
بھوپال کے لیے واپسی۔
۶؍ دسمبر
۸؍ ذی قعدہ
سفر کلکتہ ہمراہ نواب شاہ جہاں بیگم۔
۱۱؍ محرم
بھوپال واپس پہنچے۔
۲۷؍ ذیقعدہ
سفر دہلی ہمراہ نواب شاہجہاں بیگم برائے شمولیت دربار دہلی۔ انگریزی حکومت کے حدود میں سترہ توپوں کی سلامی کا اعزاز حاصل ہوا۔
فروری
۱۸؍ محرم
بھوپال واپس پہنچے۔
۲۷؍ فروری
۱۳؍ صفر
انگریزی حکومت کے حدود میں سلامی کا اعزاز حاصل ہونے کی خوشی میں بھوپال میں جشنِ مسرت منعقد ہوا۔
سلطان ترکی عبد الحمید خاں کی طرف سے تمغہ مجیدی درجہ دوم کا اعزاز۔
۲۱؍ مارچ
الزامات عائد کیے گئے۔ تصنیف و تالیف کے کام سے روک دیا گیا۔
۳؍ ذی الحجہ
قدسیہ بیگم نے اپنی تمام جائداد و جاگیر کا مالک و مختار نواب شاہ جہاں بیگم کو بنا دیا۔