فهرس الكتاب

الصفحة 117 من 167

مثبت شفاعت: [1]

ا۔مثبت شفاعت کا معنی: … (جو شفاعت اللہ تعالیٰ سے طلب کی جائے) ۔

ب۔ اس کی شرائط: …

۱۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کرنے والے کو شفاعت کی اجازت۔

۲۔ شافع اور مشفوع سے اس کی رضامندی۔

ج۔ اس کی دلیل:

۲۔ دوسری شفاعت دخولِ جنت کی ہو گی۔ اس کا مفصل بیان سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے جو صحیحین میں مروی ہے۔ اور گزشتہ سطروں میں گزر چکی ہے۔

۳۔ تیسری شفاعت ان لوگوں کی ہو گی جو اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہوتے ہوئے اپنے گناہوں کی پاداش میں دخولِ جہنم کے حق دار قرار پا جائیں گے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ان کی شفاعت کریں گے تاکہ یہ لوگ دوزخ میں نہ جا سکیں۔

۴۔ چوتھی شفاعت: ان اہل توحید کے لئے ہو گی جو اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کی سزا بھگت رہے ہوں گے۔ احادیث متواترہ، اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم، اور اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ اہل توحید اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا بھگتیں گے۔جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ان نفوس قدسیہ نے ان کو بدعتی قرار دیا ہے، ان کی نکیر کی ہے اور ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے۔

۵۔پانچویں شفاعت صرف اہل جنت کے لئے ہو گی تاکہ ان کے اجر میں اضافہ کیا جائے اور ان کے درجات بلند کیے جائیں۔ اس شفاعت میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے۔

مذکورہ بالا پانچوں اقسام صرف ان مخلص لوگوں کے لئے ہیں جنہوں نے کسی غیر اللہ کو نہ اپنا ولی بنایا اور نہ شفاعت کنندہ سمجھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَ اَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْ لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ} '' اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) !آپ وحی کے ذریعہ سے ان لوگوں کو نصیحت کریں جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہو گا جو اِن کا حامی و مددگار ہو یا ان کی سفارش کرے۔'' (الانعام:۵۱)

۶۔ چھٹی شفاعت:اہل جہنم کفار کے عذاب میں تخفیف کی شفاعت:اوریہ صرف ابوطالب کے لئے خاص ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت