فهرس الكتاب

الصفحة 147 من 167

اللہ اور مخلوق کو لفظ ''اور'' سے شریک کرنا

اس سے مقصود:

کسی بھی معاملہ میں اس کے وقوع پذیر ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان لفظ ''اور ''سے شراکت داری قائم کرنا۔

اس کی مثالیں: [یوں کہاجائے کہ] :

۱۔ جواللہ تعالیٰ چاہے اور آپ چاہیں۔

۲۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں اور آپ سے امید کرتا ہوں۔

۳۔ میں اللہ تعالیٰ سے اور آپ سے مدد مانگتا ہوں۔

۴۔ میرا اللہ تعالیٰ کے اور آپ کے علاوہ کوئی نہیں۔

۵۔ اگراللہ تعالیٰ اور آپ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔

اور اس کے مشابہ دیگر کلام۔

اس کا حکم:

اس کی دو اقسام ہیں:

۱۔ اگر وہ ان دونوں کے مابین مساوات کا اعتقاد رکھتا ہے تو پھر ایسے کہنا شرک اکبرہے اگرچہ وہ اس کے درمیان لفظ ''پھر '' بھی استعمال کرے۔

۲۔ اگر مساوات کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو پھر شرک اصغر ہے۔

ایسے الفاظ میں حق تو یہ ہے کہ اس کے دو مراتب ہیں:

ا:…مساوات کے اعتقاد کے بغیر اس میں لفظ ''پھر '' استعمال کیا جائے۔ مثلًا یوں کہے:'' جو اللہ تعالیٰ چاہے اور پھر آپ چاہیں۔''میں اللہ سے مدد کا سوال کرتا ہوں اور پھر آپ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت