''چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کو منحوس سمجھنا اور صفر کو منحوس سمجھنا یہ سب لغو خیالات ہیں۔''
ایک دوسری حدیث میں ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلطِّیْرَۃُ مِنَ الشِّرْکِ۔ ) ) [رواہ أبو داؤد و الترمذي]
'' بدشگونی لینا شرک کا کام ہے۔'' [1]
یہ دو احوال سے خالی نہیں ہوتا:
اوّل:… یہ کہ اس بدشگونی کو سنجیدگی سے لے، اور کوئی بھی کام کرنے سے باز آجائے تو
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: '' کاہن، نجومی، اور علم رمل جاننے والے کو عراف کہا جاتا ہے۔ جیسے وہ شخص جو اٹکل پچو سے کام لے کر غیب دانی، اور کشف وغیرہ کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہو۔''
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے بارے میں جو حروف ابجد وغیرہ لکھ کر حساب کرتے اور نجوم سیکھتے تھے، فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسا عمل کرے اس کا آخرت میں کوئی حصہ اور اجر نہیں ہے۔
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ہمارے اوپر سے ایک پرندہ چیختا ہوا گزر گیا؛ ایک آدمی کہنے لگا ''بھلائی ہے بھلائی ہے۔'' سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا کہ ''دیکھو! اس میں خیر ہے نہ شر ہے۔'' آپ نے یہ بات سنتے ہی اس کی تردید اور ممانعت فرمائی کہ کہیں اس کے دِل میں خیر و شر کی تاثیر کا عقیدہ نہ پیدا ہو جائے۔ صحیحین میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا عَدْوٰی وَ لَا طِیَرَۃَ وَ یُعْجِبُنِی الْفَالُ۔ قَالُوْا: وَ مَا الْفَالُ؟ قَالَ: اَلْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ۔ ) )
'' کوئی بیماری متعدی نہیں ہے اور نہ بدشگونی کوئی چیز ہے اور مجھے نیک فال پسند ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:نیک فال کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اچھی بات کونیک فال کہتے ہیں۔''