فهرس الكتاب

الصفحة 150 من 167

اس کی دلیل [منافقین سے نقل کردہ] اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا} (آل عمران:۱۶۸)

'' اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے۔''

۲۔تقدیر پر اعتراض:

اس کی دلیل [منافقین سے نقل کردہ] اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{یَقُوْلُوْنَ لَوْ کَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰہُنَا} (آل عمران:۱۵۴)

''وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے۔''

۳ـ شرو برائي کي تمنا:

…اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان مبارک ہے جو آپ نے چار آدمیوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ؛ ان میں سے ایک نے کہا تھا: '' اوراگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح عمل کرتا۔''

یعنی اس نے شر اور فسادکی تمنا کی تھی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' یہ انسان بھی اپنی نیت پر ہے ؛ اور ان دونوں کاگناہ برابر ہے۔ '' [1]

[رواہ أحمد و الترمذی]

(( اِحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَ اسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَ لَا تَعْجَزَنَّ وَ اِنْ اَصَابَکَ شَیْیئٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ اَنِّیْ فَعَلْتُ کَذَا وَ کََذا لَکَانَ کَذَا وَ کَذَا وَ لَکُنْ قُلْ قَدَّرَ اللّٰہُ وَ مَا شَآئَ فَعَلَ [حاشیہ جاری ہے]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت