فهرس الكتاب

الصفحة 37 من 167

[1] کے لئے خالص ہو اور کسی بھی قسم کی عبادت کوغیر اﷲ کے لئے نہ بجالائے۔ [2]

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ} [البینہ:۵]

''انہیں صرف یہی حکم دیاگیا ہے کہ اﷲ کی عبادت کریں اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے یکسو ہوکر۔''

۴۔چوتھی شرط:صدق جو کذب کے منافی ہو:…یعنی کلمہ توحیدکے اقرارمیں انسان سچا ہو، اس کی زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق میں مطابقت ہونی چاہیے۔ فرمان الٰہی ہے:

[2] اس طرح اخلاص کا معنی یہ بھی ہے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کااقرار کسی اور کی خاطر کسی اور کی خوشنودی کے لئے نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( فَاِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی النَّارِ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَبْتَغِیْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ۔ ) )''اللہ تعالیٰ نے جہنم پر حرام کر دیا ہے اس شخص کو جو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ صرف اﷲ کی رضا مندی کے لئے کہتا ہے۔'' (بخاری و مسلم) دوسری حدیث میں ہے آپ نے فرمایا: (( أسعد الناس بشفاعتی یوم القیامۃ من قال لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ خالصا مخلصا من قلبہ ) )۔''روزِقیامت میری شفاعت [حاشیہ جاری ہے]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت