فهرس الكتاب
شریعت میں ایمان کی دو حالتیں ہیں:
پہلی حالت: یہ ہے کہ اسلام کا ذکر نہ کرکے صرف ایمان کا ذکر کیا جائے،ایسی صورت میں ایمان سے پورا دین مراد ہوگا، جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
{اللّٰہُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} [1]
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا ولی (سرپرست) ہے ' وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔
سلف صالحین رحمہم اللہ اپنے قول''ایمان: عقیدہ اور قول و عمل کا نام ہے، اور سارے اعمال ایمان کے نام میں داخل ہیں '' سے یہی معنیٰ مراد لیتے ہیں ۔
دوسری حالت: یہ ہے کہ ایمان اور اسلام کا ایک ساتھ ذکر کیا جائے،