حرام کردہ کسی چیزکو جس کی حرمت دین اسلام میں بدیہی طور پر معلوم ہے' حلال سمجھے 'جیسے زنا' شراب ' سود اور اللہ کی شریعت کے علاوہ سے فیصلہ لینا وغیرہ، تو ایسا شخص باتفاق مسلمین کافر ہے۔ ہم اللہ کے غیظ و غضب کو واجب کرنے والی چیزوں سے اور اس کے دردناک عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ [1]
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ لینے کے مسئلہ میں تفصیل ہے، اس سلسلہ میں - ان شاء اللہ- درست منہج ملاحظہ فرمائیں:
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
{وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [2]
جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے ذریعہ فیصلہ نہ کریں وہی
[2] سورۃ المائدہ: ۴۴۔