{ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ 17} سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ [1]
یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے۔ ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے۔
زبانیۃ: سے مراد عذاب کے فرشتے ہیں ، زبانیہ''زبني'' کی جمع ہے' یہ ''زبن'' سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ڈھکیلنے اور دھکا دینے کے ہیں ۔ اس کا اصلی معنیٰ پولس اور کارندہ کے ہیں ، اور عذاب کے بعض فرشتوں کو ''زبانیۃ'' اس لئے کہا جاتاہے کہ وہ دوزخیوں کو دوزخ میں ڈھکیل دیں گے۔ [2]
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
{ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ 77} لَقَدْ جِئْنَاكُم بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ [3]
[2] دیکھئے: القاموس المحیط، ص۱۵۵۲ والمعجم الموسیط، ۱/۳۸۸ وتفسیر بغوی، ۴/۵۰۸ و تفسیر ابن کثیر، ۴/۵۲۶۔
[3] سورۃ الزخرف: ۷۷، ۷۸۔