سوال: حیض ، نفاس، اور جنابت غسل کا کیا ایک ہی طریقہ ہے؟ اگر مختلف ہے تو احادیث کی روشنی میں بتائیں؟
جواب: حیض ، نفاس اور جنابت کے غسل کا طریقہ قریبًا ایک جیسا ہے، البتہ حیض و نفاس کے غسل میں مخصوص مقام کی صفائی کا ازالۂ نجاست کے لیے خصوصی اہتمام ہونا چاہیے۔ بالوں کو کھول کر کنگھی کرنی چاہیے۔ استنجاء کے بعد غسل سے پہلے وضوہونا چاہیے۔ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچایا جائے، پھر سَر میں تین چُلو پانی بہایا جائے۔ سَر کا خلال پہلے دائیں طرف ہو پھر بائیں طرف سے اور پھر سارے جسم پر پانی بہا دیا جائے۔
سوال: ۱س دَور میں جنبی عورت کے بالوں کا مسئلہ ہے جب کہ اس نے چٹیا بھی کی ہو۔
جواب: سَر پر تین دفعہ پانی بہا دینا کافی ہے۔ حدیث اُم سلمہ رضی اللہ عنہا میں ہے:
(( اِنَّمَا یَکفِیکِ أَن تَحثِی عَلٰی رَأسِکِ ثَلَاثَ حَثَیَاتٍ ) )رواہ الجماعۃ الا البخاری [1]
''یعنی تیرے لیے یہی کافی ہے کہ سَر پر تین چلو بہائے۔''
اگر غسلِ جنابت کیے بغیر موت آجائے تو کیا حکم ہو گا؟
سوال: اگر آدمی کو رات کو احتلام ہو جائے، سردی کی وجہ سے غسل نہ کر سکے اور اذان کے وقت غسل کرے۔ گرم پانی موجود بھی ہے۔ مثلًا رات کے ۱۲ بجے غسل کی حاجت پیش آئی۔ اذانِ صبح کا وقت ۳۵:۵ ہے۔ بارہ بجے سے پانچ بجے تک کے وقت میں اگر موت آجائے تو آدمی کس حال میں اٹھایا جائے گا؟پاکی حالت میں یا ناپاکی کی حالت میں؟
جواب: حالت احتلام میں مرنے والا طاہر اٹھے گا۔ صحیح حدیث میں ہے: (( إِنَّ المُؤمِنُ لَا یَنجُسُ ) ) [2]
اصلًا قابلِ اعتبار طہارت عقیدہ کی ہے۔ احتلام کی ناپاکی صرف ظاہری ،حکمی اور عارضی ہے، جو غسلِ میت وغیرہ سے زائل ہو جاتی ہے۔ قصہ حنظلہ رضی اللہ عنہ ''غسیل الملائکۃ'' بھی اس کا مؤید (تائید کرنے والا) ہے ۔ موت تو انسان کو کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ جلدی آئے یا بدیر۔ ویسے بھی شرعًا غسلِ جنابت کو مؤخر کرنے کا جواز ہے۔صحیح حدیث میں قصہ ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ اس امر کی واضح دلیل ہے۔ ملاحظہ ہو!''صحیح بخاری'' وغیرہ۔
[2] صحیح البخاری،بَابٌ: الجُنُبُ یَخْرُجُ وَیَمْشِی فِی السُّوقِ وَغَیْرِہِ ،رقم:۲۸۵