صورت ممکن نہ ہو تو نماز ہو جائے گی۔ ان شاء اﷲ۔
سوال: استاذِ گرامی ٔ قدر! مندرجہ ذیل حدیث کی رو سے راقم کو چند مسائل دریافت کرنے ہیں۔ امید ہے کہ آپ خصوصی شفقت فرمائیں گے۔
حَدَّثَنَا ھَنَّادٌ، نَا وَکِیعٌ، عَن مُوسٰی بنِ عَلِیٍّ بنِ رِبَاحٍ، عَن اَبِیہِ، عَن عُقبَۃَ ابنِ عَامِرٍ الجُھَنِیِّ قَالَ: (( ثَلَاثُ سَاعَاتِ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَنھَانَا اَن نُصَلِّیَّ فِیھِنَّ، اَو نَقبُرَ فِیھِنَّ مَوتَانَا۔ حِینَ تَطلُعُ الشَّمسُ بَازِغَۃً، حَتّٰی تَرتَفِعَ ۔ وَ حِینَ یَقُومُ قَائِمُ الظَھِیْرَۃِ، ) )
حَتّٰی تَمِیلَ ۔ وَ حِینَ تَضِیفُ لِلغُرُوبِ ، حَتّٰی تَغرُبَ ))
قَالَ أَبُو عِیسٰی: ھٰذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ۔ [1]
۱۔ اوقات منع میں فرضی نماز پڑھی جاسکتی ہے؟
۲۔ ان اوقات میں سببی نماز کا کیا حکم ہے؟
۳۔ اس بارے میں مختلف ائمہ کے کیا اقوال ہیں؟ نیز ترجیح کس مذہب کو دی جائے گی؟
جواب: ۱)فرض نماز ممنوع اوقات میں پڑھی جاسکتی ہے۔چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَن نَسِیَ صَلٰوۃً، أَو نَامَ عَنھَا، فَکَفَّارَتُھَا أَن یُصَلِّیھَا ، اِذَا ذَکَرَھَا ) ) [2]
یعنی ''جو کسی نماز کو بھول گیا یا اس سے سویا رہا پس اس کا کفارہ یہ ہے ، کہ جب یاد آئے پڑھ لے۔''
ظاہر ہے کہ حدیث ممنوع اوقات کو بھی شامل ہے۔ امام مالک،شافعی،احمد اور اسحاق رحمہما اللہ ؒ کا یہی مسلک ہے۔ یہ حدیث اور اس کی ہم معنی دیگر روایات ممانعت کی احادیث کی مخصِّص (خاص کرنے والی) ہیں۔ ''صحیحین'' کے علاوہ یہ الفاظ بھی وارد ہیں:
(( فَوَقتُھَا حِینَ یَذکُرُھَا۔ لَا وَقتَ لَھَا اِلَّا ذٰلِکَ ) ) (المرعاۃ: ۱؍ ۴۰۰)
اس سے معلوم ہوا کہ یہ وقت اس کی ادائیگی ہی کا ہے۔ نہ کہ قضاء کا۔''
[2] صحیح البخاری، بَابُ مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّ إِذَا ذَکَرَ، وَلاَ یُعِیدُ إِلَّا تِلْکَ الصَّلاَۃَ،رقم:۵۹۷