فهرس الكتاب

الصفحة 341 من 883

چار دفعہ کا ذکر ہے۔ [1]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

(( وَ یَظھَرُ لِھٰذَا التَّقرِیرِ تَرجِیحُ قَولِ مَن قَالَ بِتَربِیعِ التَّکبِیرِ فِی أَوَّلِہٖ عَلٰی مَن قَالَ بِنِیَّتِہٖ ) ) [2]

نماز کے لیے اقامت کب کہی جائے؟

سوال: اقامت کس وقت کہنی چاہیے جب کہ امام مقتدی کے پاس ہی تلاوت ِ قرآن میں یا کسی شخص سے مصروفِ گفتگو ہے اور وہ اقامت کی آواز سن سکتا ہے یا صرف امام کے جائے امامت پر قدم رکھ چکنے کے بعد اقامت کہی جائے گی؟

جواب: امام جب امامت کے فرائض کی ادائیگی کے لیے تیار ہو۔ اس کی حالت یا کیفیت چاہے جونسی ہو، اس وقت تکبیر کہی جا سکتی ہے۔ اقامت کے لیے اس کا جائے مصلّی پر کھڑا ہونا ضروری نہیں۔ مؤذن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی عام طور پر عادت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے نکلتے ہی فورًااقامت کہہ دیتے۔

اقامت اکہری یا دوہری:

سوال: گزارش ہے کہ ترمذی کی ایک حدیث جس کو احناف حضرات اپنی اذان و اقامت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ اگر ضعیف ہے تو اس کا ضعف کیا ہے امید ہے کہ جواب با دلیل ہو گا:

(( بَابُ مَا جَائَ اَنَّ الاِقَامَۃَ مَثنٰی مَثنٰی۔ حَدَّثَنَا اَبُو سَعِیدٍ نِ الاَشَجُّ ثَنَا عُقبَۃُ بنُ خَالِدٍ عَنِ ابنِ اَبِی لَیلٰی، عَن عَمرٍو بنِ مُرَّۃَ، عَن عَبدِ الرَّحمٰنِ بنِ اَبِی لَیلٰی، عَن عَبدِ اللّٰہِ بنِ زَیدٍ قَالَ: کَانَ اَذَانُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شُفعًا، شُفعًا فِی الاَذَانِ، وَالاِقَامَۃ ) ) [3]

جواب: اس باب کے تحت بذاتِ خود امام ترمذی رقمطراز ہیں: (( وَعَبدُ الرَّحمٰنِ بنُ اَبِی لَیلٰی لَم یَسمَع مِن عَبدِ اللّٰہِ بنِ زَیدٍ ) ) [4] یعنی عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کا عبد اﷲ بن زید سے سماع ثابت نہیں۔

[2] فتح الباری:۲۸۳

[3] سنن الترمذی، اابواب الصلوٰۃ، بَابُ مَا جَاء َ أَنَّ الإِقَامَۃَ مَثْنَی مَثْنَی، رقم:۱۹۴4

[4] سنن الترمذی مع تحفۃ الاحوذی:۱؍۵۸۱

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت