امام کے ساتھ ''آمین''کہی جائے۔ یا کہ فاتحہ پڑھنے کے بعدخود آہستہ آمین کہے بغیر '' آمین'' جہرًا کہنے کے لیے امام کی قرأتِ فاتحہ ختم ہونے کا انتظار کیا جائے ؟
جواب: حدیث (( اِذَا اَمَّنَ الاِمَامُ فَاَمِّنُوا ) ) [1] کا تقاضا یہ ہے، کہ (آمین) امام کے ساتھ کہی جائے اور جَہری نمازوں میں سورہ ٔ فاتحہ کی قرأت میں سبقت کی بجائے امام کی پیروی ہونی چاہیے۔ تاکہ (آمین) میں امام کے ساتھ موافقت ہو سکے اور اقتداء کا مقصد حاصل ہو۔
سوال: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ۔ جس کی آمین امام کی آمین کے مطابق ہوگئی، اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اس حدیث کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ امام اور مقتدی ایک ساتھ آمین کہیں۔ اسی طرح ایک حدیث میں یہ ہے کہ جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہٗ کہے تو تم اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الحَمدُ کہو۔ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ کیا آمین کی حدیث کی طرح امام اور مقتدی ایک ساتھ رَبَّنَا لَکَ الحَمدُ کہیں گے؟
جواب: دونوں احادیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ (( اِذَا أَمَّنَ الاِمَامُ فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّہٗ مَن وَافَقَ تَامِینُہٗ تَامِینَ المَلَائِکَۃِ، غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِہٖ ) ) [2]
۲۔ (( إِذَا قَالَ الاِمَامُ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہٗ فَقُولُوا: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الحَمدُ، فَإِنَّہٗ مَن وَافَقَ قَولُہٗ قَولَ المَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِہٖ ) ) [3]
ان دونوں احادیث میں فاء آئی ہے، جو ترتیب اور تعقیب کا تقاضا کرتی ہے۔ یعنی اس کا تقاضا یہ ہے کہ مقتدی کا قول (آمین اور رَبَّنَا …) دونوں صورتوں میں امام کے قول کے بعد متصل ہونا چاہیے۔ نہ کہ برابر ۔جس طرح کہ سائل کا خیال ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ پہلی حدیث میں موافقت سے مراد امام کی موافقت نہیں۔ بلکہ فرشتوں کی موافقت ہے، جس طرح کہ دوسری حدیث میں بھی اسی امر کی تصریح ہے۔
[2] متفق علیہ،صحیح البخاری،بَابُ جَہْرِ الإِمَامِ بِالتَّأْمِینِ، رقم:۷۸۰،و رقم:۶۴۰۲،صحیح مسلم، رقم:۴۱۰
[3] متفق علیہ،صحیح البخاریبَابُ فَضْلِ اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الحَمْدُ ،رقم:۷۹۶، صحیح مسلم،رقم:۴۰۹