لیکن حدیث ہذا کی سند میں راوی فائد بن عبد الرحمن بن أبی الورقاء ضعیف ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے حاکم کے تعاقب میں فرمایا ہے:'' بِأَنَّہٗ مَترُوکٌ. فَالحَدِیثُ ضَعِیفٌ'' البتہ امام شوکانی رحمہ اللہ نے ''تحفۃ الذاکرین'' میں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ''ا'' میں اس کے دیگر طُرُق بھی ذکر کیے ہیں، لیکن وہ بھی کمزور ہیں۔ ہاں یہی روایت ''مسند احمد'' میں حضرت ابو الدرداء سے مختصر بیان ہوئی ہے۔ اس کی سند صحیح ہے۔ اس کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔
(( قَالَ سَمِعتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَقُولُ: مَن تَوَضَّأَ فَأَسبَغَ الوُضُوئَ، ثُمَّ صَلّٰی رَکعَتَینِ یُتِمُّھُمَا۔ أَعطَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَا سََأَلَ مُعَجَّلًا ، اَو مُؤَخَّرًا ) ) [1]
یعنی ''حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کہ جس نے کامل وضو کیا۔ پھر دو رکعتیں مکمل کیں۔ جلدی یا بدیر اﷲ عزوجل اس کی طلب پوری کرے گا۔''
نمازِ فجر کے بعد نمازِ اشراق کے لیے اسی جگہ خاموش بیٹھنا ضروری ہے ؟
سوال: نمازِ اشراق کے لیے نمازِ فجر کے بعد اسی جگہ خاموشی سے بیٹھے رہنا کیا لازمی ہے؟
جواب: نمازِ اشراق کی ادائیگی کے لیے اسی جگہ خاموشی سے بیٹھے رہنا ضروری نہیں۔ کلماتِ خیر کے ساتھ نُطق (کلام کرنا) کا جواز ہے۔ حضرت معاذ بن انس الجہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَن قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ حِینَ یَنصَرِفُ مِن صَلَاۃِ الصُّبحِ، حَتَّی یُسَبِّحَ رَکعَتَیِ الضُّحَی، لَا یَقُولُ إِلَّا خَیرًا، غُفِرَ لَہُ خَطَایَاہُ، وَإِن کَانَت أَکثَرَ مِن زَبَدِ البَحرِ ) ) [2]
''یعنی جو صبح کی نماز پڑھ کر جائے نماز میں بیٹھا رہا حتی کہ سورج طلوع ہونے کے بعد دو رکعت ادا کرے، زبان سے صرف کلمۂ خیر نکلا، تو اﷲ اس کی سب خطائیں معاف کردیتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔''
ابوداؤد نے اگرچہ اس پر سکوت اختیار کیا ہے، لیکن روایت سندًا کمزور ہے۔ امام منذری رحمہ اللہ نے کہا ہے،
[2] سنن أبى داؤد ،باب الضحىٰ ،رقم: ۱۲۷۸