فهرس الكتاب

الصفحة 468 من 883

علماء کا طرز عمل ہے۔

جواب: دورانِ نماز مختلف مقامات سے قرآن کی تلاوت ہو سکتی ہے۔ [1]

تین چار ماہ میں جہری نمازوں میں قرآنِ مجید ختم کرنا :

سوال: فرض جہری نمازوں میں تراویح کے انداز میں مسلسل قرآنِ مجید پڑھنے یعنی تقریبًا ۳،۴ ماہ میں قرآنِ مجید کی تلاوت کا مکمل کرنے کا شرعًا کیا حکم ہے؟ ایک مفکر اسلام کا کہنا ہے کہ یہ فرائض نماز کے لیے مکروہ ہے۔ کیا ایک روز پہلے یہ بتا دینا کہ کل نماز میں رکوع نمبر، سورۂ نمبر، اور آیت نمبر تلاوت کی جائے گی نامناسب ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ جو نمازی عربی سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے وہ گھر سے پڑھ کر آئیں؟ براہِ مہربانی مستند حوالوں سے روشنی ڈالیں، دل کا اطمینان درکار ہے۔

جواب: تین چار ماہ میں جہری نمازوں میں قرآنِ مجید ختم کرنا کراہت سے بہرحال خالی نہیں۔ کمزور وناتواں اور حاجت مندوں کی رعایت کے پیشِ نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو عشاء کی نماز میں لمبی قرأت کرنے سے صرف روکا ہی نہیں بلکہ فتنے باز قرار دیا۔ پھر قدرے چھوٹی سورتوں کی تلقین فرمائی۔ بعض دیگر روایات سے بھی اس امر کی راہنمائی ملتی ہے۔ (بلوغ المرام باب صلاۃ الجماعۃ والامامۃ) [2]

تاہم باقی نمازوں کی نسبت فجر کی نماز میں لمبی قرأت کرنا مسنون ہے۔ نیز امام کا نمازیوں کو مقام قرأت سے آگاہ کرنا ضروری نہیں، اپنے شوق سے امام کے مقامِ قرأت سے آگاہ رہیں۔ تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں، کیونکہ یہ شے فرائضِ امامت میں شامل نہیں۔

منفرد نمازی فرض نماز سرًّا پڑھے یا جہرًا:

سوال: جماعت المسلمین کے مطابق منفرد نمازی بھی اسی طرح فرض نماز پڑھے گا جس طرح امام نماز پڑھے گا۔ جو چیز امام جہرًا پڑھتا ہے منفرد فرض نماز میں وہ چیز جہرًا پڑھے گا۔کہتے ہیں کہ یہ فرض نماز کا حصہ ہیں۔ کیا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب: کسی مرفوع متصل روایت سے یہ طریقہ ثابت نہیں۔

[2] صحیح البخاری،بَابُ إِذَا طَوَّلَ الإِمَامُ، وَکَانَ لِلرَّجُلِ حَاجَۃٌ، فَخَرَجَ فَصَلَّی ،رقم:۷۰۱، صحیح مسلم، بَابُ الْقِرَاء َۃِ فِی الْعِشَائِ ، رقم:۴۶۵

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت