یہی ہے۔ اس بارے میں ''حِبرُ الأُمَّۃَ'' اور ''تَرجُمَانُ القرآن'' حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے:
(( فَإِذَا قَدِمتَ عَلٰی أَھلٍ أَو مَاشِیَۃٍ فَأَتِمَّ ) ) [1]
یعنی'' جب تیرا اپنے اہل یا مال میں آنا ہوتو نماز پوری پڑھ۔''
اور امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (( إِذَا مَرَّ بِمَزرَعَۃٍ لَہٗ أَتَمَّ ) )
یعنی ''جب کسی کا گزر اپنی زرعی زمین سے ہو تو وہ نماز پوری پڑھے۔''
اور فقہائے اسلام میں سے امام احمد اور امام مالک; بھی قریبًا اسی بات کے قائل ہیں کہ جہاں کسی کا گھر ہو یا مال وغیرہ ہو وہاں نماز پوری پڑھی جائے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو! مغنی ابن قدامہ:۲؍۱۳۵۔
اور صاحب المنتقیٰ نے بایں الفاظ تبویب قائم کی ہے:
(( بَابُ مَنِ اجتَازَ فِی بَلَدٍ فَتَزَوَّجَ فِیہِ أَولَہٗ فِیہِ، زَوجَۃٌ، فَلیُتِمَّ ) )
'' جس کا گزر اس شہر سے ہو جہاں اس نے شادی کی ہے یا وہاں اس کی بیوی ہے تو وہ نماز پوری پڑھے۔''
اس تبویب کے ضمن میں ایک مرفوع روایت بیان ہوئی ہے، جس کے الفاظ یوں ہیں:
(( مَن تَأَھَّلَ فِی بَلَدٍ فَلیُصَلِّ صَلَاۃَ المُقِیمِ ) ) [2]
یعنی ''جس نے کسی شہر میں نکاح کیا اُسے چاہیے کہ مقیم کی نمازپڑھے۔ ''
لیکن امام بیہقی نے اس حدیث پر انقطاع کاحکم لگانے کے علاوہ عکرمہ بن ابراہیم راوی کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اسی بناء پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(( ھٰذَا الحَدِیثُ لَا یَصِحُّ، لِأَنَّہٗ مُنقَطِعٌ۔ وَ فِی رُوَاتِہٖ مَن لَا یُحَتَجُّ بِہٖ ) ) [3]
سوال: ایک شخص سرکاری ملازمت اختیار کرتا ہے اور اسے گھر سے اتنے فاصلے پر تعینات کیا جاتا ہے کہ وہ قصر نماز پڑھے لیکن اگر وہ جائے ملازمت پر رہائش پذیر ہو جاتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا تبادلہ
[2] مسند احمد، رقم:۴۴۳
[3] فتح الباری:۲؍۵۷۰