اور نمازِ فجر کے بعد بھی قضادے لی جائے تو جواز ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی میں ہے کہ''جوشخص سوگیا یا بھول گیا تو وہ صبح کرے یا جب یاد آئے وتر پڑھ لے''۔
یہ روایت ترمذی میں ہے لیکن اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ائمہ حدیث کے نزدیک قابل حجت نہیں، البتہ اس کا ایک متابع (مؤید) محمد بن مطرف سنن ابوداد ، دارقطنی او رحاکم میں موجود ہے۔اس لیے یہ حدیث قابل حجت ہے۔
سوال: کیا وِتر کی نماز کے بعد بیٹھ کر دو نفل پڑھنا جائز ہے؟
جواب: وتروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کا صرف جواز ہے۔ تاکیدنہیں۔ چنانچہ ''صحیح مسلم'' میں ہے:
(( ثُمَّ یُوتِرُ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکعَتَینِ، وَ ھُوَ جَالِسٌ ) ) [1]
یعنی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وِترپڑھتے۔ بعد ازاں بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے۔
یہ بھی یاد رہے! بِلَا عُذر بیٹھ کر نماز پڑھنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پورا ثواب تھا، جب کہ ایک امتی کے لیے آدھا ثواب ہے۔ ملاحظہ ہو! صحیح مسلم:۱؍۲۵۳۔
لہٰذا اجر کی تکمیل کے پیشِ نظر اگر کوئی ان دو رکعتوں کو پڑھنا چاہے تو کھڑا ہو کر پڑھے۔اگرچہ أولیٰ (بہتر) نہ پڑھنا ہے، تاکہ وِتر رات کی آخری نماز بن سکے۔ جس طرح کہ نص حدیث میں بصیغۂ أمر موجود ہے۔
(( اِجعَلُوا آخِرَ صَلٰوتِکُم بِاللَّیلِ وِترًا ) ) [2]
اصول فقہ کا قاعدہ ہے کہ ''فعل'' پر ''أمر'' مقدم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ فعل میں خاصہ (خصوصیت) کا احتمال ہوتا ہے، جب کہ ''أمر'' میں یہ شے نہیں۔ [3]
[2] صحیح مسلم،بَابُ صَلَاۃُ اللَّیلِ مَثنَی مَثنَی، وَالوِترُ رَکعَۃٌ مِن آخِرِ اللَّیلِ،رقم:۷۵۱، سنن ابی داؤد،رقم:۱۴۳۸
[3] الاعتصام…! وِتر کے بعد دو رکعت پڑھنے میں علمائے اہلحدیث کا اختلاف ہے۔ بعض علماء تو اس موقف کے حامی ہیں جو حضرت مفتی صاحب ( مولانا حافظ ثناء اﷲ مدنی) حفظہ اللہ نے سطور بالا میں اختیار فرمایا ہے، کہ یہ دو رکعتیں نہ پڑھنا أولیٰ ہے۔ نیز اگر پڑھی جائیں تو کھڑے ہو کر پڑھی جائیں۔
دوسرا موقف علمائے اہلحدیث کا یہ ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چونکہ بسندِ صحیح، یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وِتر =======