فهرس الكتاب

الصفحة 582 من 883

پڑھنے والے کا موقف بے دلیل ہے کیا یہ صحیح ہے؟

جواب: پہلے ''تشہد'' میں درود پڑھنے کے لیے علامہ البانی کا استدلال عام حدیث (( فَکَیفَ نُصَلِّی عَلَیکَ؟ قَالَ: قُولُوا: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ… ) ) [1] سے ہے، جب کہ مخالفین کا استدلال بھی چند ایک روایات پر مبنی ہے۔ مثلًا ''مسند احمد'' اور ابن خزیمہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تشہد سکھایا۔ پس جب وہ درمیانہ قعدہ میں بیٹھتے اور آخر قعدہ میں بیٹھتے، تو بائیں ران پر بیٹھتے اور تشہد ''عبدہ و رسولہ'' تک پڑھتے۔ پھر اگر درمیانے قعدہ میں ہوتے تو صرف تشہد پڑھ کر کھڑے ہوجاتے اوراگر اخیر میں ہوتے، تو تشہد کے بعد جو اﷲ چاہے دعا مانگتے۔ پھر سلام پھیرتے اور دوسری روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ فرمایا:

(( کَانَ النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فِی الرَّکعَتَینِ الاُولَیَینِ، کَأَنَّہُ عَلَی الرَّضفِ حَتّٰی یَقُومَ ) ) [2]

'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں بیٹھتے گویا کہ گرم پتھر پر ہوں۔''

لیکن روایت ہذا منقطع ہے۔ کیونکہ ابو عبیدہ کا سماع اپنے باپ سے ثابت نہیں۔ ''ابن ابی شیبہ'' میں تمیم بن سلمہ کے طریق سے ہے، کہ

(( کَانَ اَبُو بَکرٍ اِذَا جَلَسَ فِی الرَّکعَتَینِ، کَأَنَّہٗ عَلَی الرَّضفِ ۔ إِسنَادُہٗ صَحِیحٌ وَ رُوِیَ عَنِ ابنِ عُمَرَ نَحوَہٗ ) )

''حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب دو رکعتوں میں بیٹھتے، تو گویا وہ گرم پتھر پر ہوتے۔ اس کی سند صحیح ہے۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ لیکن پہلا مسلک اولیٰ معلوم ہوتا ہے۔''

پہلے تشہد میں درود افضل یا غیر افضل؟

سوال: تین یا چار رکعتی نماز میں دوسری رکعت میں تشہد پڑھنے کے بعد درود پڑھنا جائز ہے یا نہیں افضل ہے یا غیر افضل؟

جواب: عمومِ حدیث کی بناء پر جواز ہے۔ (( قُولُوا اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ… ) ) [3]

[2] سنن أبی داؤد،بَابٌ فِی تَخْفِیفِ الْقُعُودِ،رقم:۹۹۵، سنن الترمذی،بَابُ مَا جَاء َ فِی مِقْدَارِ القُعُودِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ.،رقم:۳۶۶

[3] صحیح البخاری،بَابُ الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،رقم:۶۳۵۷

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت