فهرس الكتاب

الصفحة 789 من 883

اور تاخیر کا جواز ہے۔

پنجاب سے گدون نوکری پر جانے والا نماز قصر کہاں کرے؟

سوال: ایک آدمی پنجاب سے نوکری کے لیے گدون امازئی آتا ہے۔ اس کی نوکری پکی ہو اور وہ ہفتہ وار گھر کو جاتا ہے اس کی گدون میں نمازیں قصر کی ہوں گی یا وہ پوری نمازیں پڑھے گا؟

جواب: ایسے شخص کو گھر جا کر نماز پوری پڑھنی ہوگی کیونکہ اب یہ مسافر نہیں رہا بلکہ مقیم بن گیا ہے البتہ دورانِ سفر قصر کرے گا جس طرح کہ محل ملازمت میں بھی نماز پوری پڑھنی ہو گی اس لیے کہ یہ بھی حکمًا اقامت ہے۔

چکوال سے ۲۴۰کلومیٹر کے فاصلے پر فیکٹری میں نماز قصریا مکمل؟

سوال: مسئلہ یہ ہے کہ ہماری فیکٹری میں ایک آدمی چکوال سے کام کرنے کے لیے آتا ہے۔ نوکری کرنے کی غرض سے وہ ۹۲ء میں گدون آگیا تھا اور اب یہاں پر مستقل نوکری کر رہا ہے۔ اس کی رہائش فیکٹری کے اندر ہے اور اس کے بیوی بچے چکوال میں مقیم ہیں۔ گدون سے چکوال تک تقریبًا ۲۴۰ کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ وہ ہرہفتہ گدون سے چکوال کو جاتا ہے اور اپنے اس سفر کے دوران نماز قصر ادا کرتا ہے۔ جبکہ فیکٹری میں قیام کے دوران پوری نماز ادا کرتا ہے اور تاحال فیکٹری میں قیام کے دوران امامت بھی کراتا ہے۔ اس کا یہ عمل ٹھیک ہے یا غلط؟ قیام کا ارادہ ایک ہفتہ سے زیادہ کبھی نہیں ہوتا۔

جواب: مذکور امام کا عمل درست ہے اسی پر کاربند رہنا چاہیے۔ موصوف امام کی اپنی اور مقتدیوں کی نماز بلاتردّد درست ہے اعادہ کی قطعًا ضرورت نہیں۔

سوال: جن لوگوں نے ان کی امامت میں نمازیں اس عرصہ میں ادا کی ہیں کیا ان کی نمازیں ادا ہوئی ہیں یا نہیں؟

جواب: جن لوگوں نے ایسے امام کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں ہیں ان کی نمازیں ہو گئیں ہیں۔

کتنی مسافت اور کتنے دن نماز قصر ہو سکتی ہے ؟

سوال: ایک صاحب جو کہ فیکٹری سے ۱۱۴ کلو میٹر کے فاصلہ پر رہتا ہے اور وہ ہر ہفتہ کے بعد اپنے گاؤں جاتا ہے۔ یعنی کبھی بھی پندرہ دن کے قیام کے ارادہ فیکٹری میں نہیں رہا۔ کیا یہ صاحب فیکٹری میں امامت کراسکتا ہے یا نہیں؟

جواب: فیکٹری میں یہ صاحب بھی امامت کراسکتاہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دورانِ سفر یہ لوگ مسافر ہیں، اس لیے قصر کریں گے اور فیکٹری میں قیام اقامت کے حکم میں ہے۔ لہٰذا یہاں پوری نماز پڑھی جائے گی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت