کی تلاوت کی ۔ (( فَالْتَفَتُّ إِلَیْہِ، فَإِذَا عَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ ) ) (متفق علیہ) [1] ''ناگہانی میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔'' اس سے معلوم ہوا کہ قرآنی تاثیر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے اثرات انسان کے دل و دماغ پر ظاہر ہوں نہ کہ اللہ اللہ، کمان کمان، یا استاذ ہیہ ہیہ کہہ کر خانہ پری کی جائے، اس سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔ [2]
سوال: کیا قراء کرام کا اختتامِ تلاوت پر ''صدق اللہ العظیم'' قسم کے الفاظ کہنا جائز ہے؟
جواب: قرا ء ت کے اختتام پر صدق اللہ العظیم کہنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے (( مَن اَحدَثَ فِی اَمرِنَا ھٰذَا مَا لَیسَ مِنہُ فَھُوَ رَد ) ) [3] ''جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔''
پھر متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تلاوتوں کے تذکرے احادیث کی کتابوں میں مرقوم ہیں لیکن کسی ایک سے بھی یہ کلمات ثابت نہیں ہوسکے۔ اگر کوئی کہے قرآن میں ہے: (قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کا فرمان اپنی جگہ برحق ہے لیکن اس میں یہ کہاں ہے کہ جب تم تلاوت ختم کرو تو یہ کہو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تلاوت سن کر آپ نے فرمایا: حَسْبُکَ تیرے لئے یہ کافی ہے۔ یہ نہیں فرمایا: صدق اللہ العظیم لہٰذا اس سے احتراز ضروری ہے۔
سوال: اسی طرح جب قاری صاحب آیاتِ عذاب یا آیاتِ انعام تلاوت کرتا ہے توکیا سامعین اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ اگر دے سکتے ہیں تو سرًا ہونا چاہئے یا جہرًا۔ نیز حالت ِنماز میں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: سامع یا مقتدی کا قاری کی تلاوت سے بعض آیات کا جواب دینا احادیث ِصحیحہ سے ثابت نہیں،البتہ قاری یا امام کے لئے ثابت ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کی کیفیت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو تسبیح کرتے اور جب سوال (والی آیت) سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب تعوذ (والی آیت) سے گزرتے تو پناہ پکڑتے۔ [4]
[2] السنن والمبتدعات:صفحہ ۲۱۹؍۲۲۰
[3] صحیح البخاری بَابُ إِذَا اصطَلَحُوا عَلَی صُلحِ جَورٍ فَالصُّلحُ مَردُودٌ،رقم:۲۶۹۷
[4] صحیح مسلم،بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِیلِ الْقِرَاء َۃِ فِی صَلَاۃِ اللَّیْلِ ،رقم:۷۷۲،سنن النسائی،بَابُ تَسْوِیَۃِ الْقِیَامِ وَالرُّکُوعِ، وَالْقِیَامِ بَعْدَ …الخ ،رقم:۱۶۶۴